1,558

“یا علی مدد ” کہنا ہم کو کیوں عزیز ہے؟

“یا علی مدد ” کہنا ہم کو کیوں عزیز ہے؟

قُلْ رَبِّ أَدْخِلْنِي مُدْخَلَ صِدْقٍ وَ أَخْرِجْنِي مُخْرَجَ صِدْقٍ وَ اجْعَلْ لِي مِنْ لَدُنْكَ سُلْطاناً نَصِيراً (سورہ اسرا: ٨٠)
(میرے حبیب) آپ کہیں: “میرے رب مجھے سچّائی کے ساتھ داخل کر اور سچّائی کے ساتھ نکال اور اپنی طرف سے مجھے ایک قوت عطا کرجو مددگار ثابت ہو”

قرآن کی اس آیت میں الله اپنے حبیب سے فرما رہا ہے کہ مجھ سے مددگار طلب کرو۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اللہ اپنے حبیب کو حکم دیتا کہ صرف مجھ ہی سے مدد طلب کرو۔ سورہ حمد کی آیت “ایاک نستعین ” (صرف تجھ ہی سے مدد چاہتے ہیں” ) کے اصول کے حساب سے آنحضرتؐ کو صرف اللہ کی ذات ہی سے مدد طلب کرنا چاہئے مگر فرمان جاری ہو رہا ہے کہ مجھ سے مددگار طلب کرو۔ ظاہر سی بات ہے، اللہ جس کو بھی رسولؐ کا مددگار بنائے گا وہ یقینًا غیر اللہ ہوگا، اور وہابیوں کی ناقص توحید کے حساب سے کسی غیراللہ سے مدد طلب کرنا شرک ہے۔ تو کیا وہابی فکر کے حساب سے یہ آیت رسول اسلام (ص) کو شرک کرنے کی تعلیم دے رہی ہے؟؟ (العیاذ باللہ)
بہر حال اس آیت کی تفسیر میں کتاب ‘البرھان فی تفسیر القرآن’ میں عالم ربانی سید ہاشم بحرانی نقل کرتے ہیں کہ مسلمانوں کے ‘حبر امت’ اور مفسر قرآن عبد اللہ ابن عباس فرماتے ہیں کہ رسول اسلام (ص) کو اللہ نے جو مددگار عطا کیا وہ حضرت امیرالمومنین علی ابن ابی طالبؑ کی ذات ہے۔
وَ اجْعَلْ لِي مِنْ لَدُنْكَ سُلْطاناً نَصِيراً قال: لقد استجاب الله لنبيه (صلی الله عليه و آله) دعاءه، فأعطاه علي بن أبي طالب (عليه السلام) سلطانا ينصره علی أعدائه.
“یقینًا اللہ نے اپنے نبیؑ کی اس دعا کو قبول کیا اور ان کو علیؑ ابن ابی طالبؑ کی شکل میں ایک قوی مددگار عطا کیا جس نے دشمنوں کے مقابلے میں آنحضرتؐ کی مدد فرمائی۔”

اسی مضمون کو بالفاظ دیگر دوسری کتب احادیث میں بھی دیکھا جاسکتا ہے۔ شیعہ حوالوں میں رسول اکرم (ص) کی اس دعا کو اس طرح بھی نقل کیا گیا ہے:
“اللّهمّ و أنا محمّد صفيّك و نبيّك، فاشرح لي صدري و يسّر لي أمري و اجعل لي وزيرا من أهلي عليّا أخي أشدد به أزري.”
یعنی “پروردگار میں محمدؐ تیرا نبی اور صفی ہوں۔ میرے سینے کو کشادہ کردے، میرے امر کو آسان بنا دے اور میرے خاندان سے میرے بھائی علیؑ کو میرا وزیر بنادے جس سے میری پشت کو تقویت حاصل ہو۔”
• تفسير کنز الدقائق و بحر الغرائب ج ۴ ص ١۵٠
• البرهان في تفسير القرآن Vol. ۲, p. ۳۱۹
• تأويل الآيات الظاهرة في فضائل العترة الطاهرة Vol. ۱، p ۱۵۶
• الطرائف في معرفة مذاهب الطوائف Vol. ۱, p. ۴۷

یہاں پر اس بات کو واضح کر دینا بھی ضوری ہے کہ اللہ نے حضرت علیؑ علیہ السلام کو صرف خاتم الانبیاء کے لیے ہی مددگار اور ناصر نہیں قرار دیا تھا۔ بلکہ بعض مواقع پر دیگر ( گزشتہ ) انبیاء کو بھی اللہ نے حضرت علیؑ کے ذریعہ ہی مدد پہنچائی تھی. شیعہ کتب احادیث و تفاسیر میں ایسے واقعات آپ کو بآسانی مل جائیں گے۔ انھیں حوالہ جات میں سے ایک حدیث اس طرح ملتی ہے۔
قال رسول اللّه: – صلّى اللّه عليه و آله: – “يا عليّ إنّ اللّه أيّد بك النبيّين سرّا، و أيّدني بك جهرا.”
“یا علیؑ! بیشک اللہ نے آپ کے ذریعہ سے پوشیدہ طور پر گزشتہ انبیاء کی مدد فرمائی اور آپ کے ذریعہ (اللہ) علانیہ طور پر میری مدد فرمائی ہے۔”
(مدینة معاجز الأئمة الإثنی عشر و دلائل الحجج علی البشر ج ١ ص ١۴۴)
پس ہم دیکھتے ہیں کہ جب بھی رسول اسلام (ص) کو مشکل کا سامنا ہوا تو آپؑ نے اپنے پرودگار سے مددگار کی شکل میں علیؑ ابن ابی طالبؑ کو طلب کیا اور یہی ان کے لیے اللہ کا فرمان بھی تھا۔ جنگ احد اور جنگ خیبر میں ہم اس بات کو بخوبی دیکھ سکتے ہیں۔ عبد اللہ ابن عبّاس روایت کرتے ہیں کہ جنگ احد میں جب رسول اکرم (ص) کے ساتھی آپؐ کو میدان جنگ میں چھوڑ کر فرار ہو گئے تو جبریل امین، اللہ کا یہ پیغام لے کر آئے۔
إِنَّ اَلنَّبِيَّ صَلَّى اَللَّهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ نُودِيَ فِي هَذَا اَلْيَوْمِ نَادِ عَلِيّاً مَظْهَرَ اَلْعَجَائِبِ تَجِدْهُ عَوْناً لَكَ فِي اَلنَّوَائِبِ كُلُّ غَمٍّ وَ هَمٍّ سَيَنْجَلِي بِوَلاَيَتِكَ يَا عَلِيُّ يَا عَلِيُّ يَا عَلِيُّ۔
(بحار الأنوار الجامعة لدرر أخبار الأئمة الأطهار علیهم السلام Vol. ۲۰, p. ۷۳)
اس دن سرور کائنات (ص) سے یہ کہا گیا کہ آپ علیؑ کو مدد کے لیے پکاریں۔ پس یہ کلمات بطور ‘ناد علیؑ’ مشہور ہیں ، جو مشکل کشا حضرت علیؑ کے چاہنے والوں کے ورد زبان رہتے ہیں۔
حضرت علیؑ سے مدد طلب کرنا رسول اکرم (ص) کی افضلیت پر کوئی حرف نہیں آتا، اس لیے کہ جب جناب سلیمان نبی اور بادشاہ ہونے کے باوجود اپنے وصی آصف بن برخیا سے مدد طلب کرسکتے ہیں اور اس میں ان کی منزلت اور شان میں کوئی حرف نہیں آتا تو ختمی مرتبت کا بھی اپنے وصی سے مدد طلب کرنا ان کے مرتبے میں کمی کا سبب نہیں بنتا۔ لہذا یہ کہنا قطعی طور پر غیر مناسب نہ ہوگا کہ “یا علی مدد” کہنا سرور کائنات (ص) کی سنّت رہی ہے۔ اور رسول اعظم (ص) نے امت کو یہی تعلیم دی ہے کہ جب بھی مشکلوں کا سامنا ہو ،مدد کے لیے ان کے وصی حضرت علیؑ کو پکارا جائے۔ اسی لیے رسولؐ سے محبت کرنے والے ان کی سنّت پر عمل کرتے ہوئے ورد ‘ناد علیٙٙا مظہر العجائب’ کو اپنے لیے عزیز رکھتے ہیں۔
ان شاءاللہ یہی “یا علی مدد” کہنے کی عادت ہمارے لیے دنیا اور آخرت دونوں کی مشکلات کو آسان بنا دے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.